دنیا
3 منٹ پڑھنے
واشنگٹن میں شامی سفارتخانے میں شامی پرچم بلند کیے جانے کا تاریخی لمحہ
وزیر خارجہ اسعد حسن الشبانی نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں شام عرب جمہوریہ کا پرچم سفارتخانے کی عمارت پر لہرایا۔
واشنگٹن میں شامی سفارتخانے میں شامی پرچم  بلند کیے جانے کا تاریخی لمحہ
شام کے وزیر خارجہ اسد حسن الشبانی نے واشنگٹن ڈی سی میں شام کے سفارت خانے میں منعقدہ تقریب میں شرکت کی اور شام کا پرچم لہرایا۔ / AA
20 ستمبر 2025

شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے واشنگٹن ڈی سی میں شامی سفارت خانے پر ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد پہلی بار شامی پرچم  کو سر بلند کیا۔  جسے شامی-امریکیوں اور الشیبانی نے ایک 'تاریخی' لمحہ قرار دیا۔ یہ واقعہ بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے نو ماہ بعد پیش آیا۔

الشیبانی نے تقریب کے بعد انادولو ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا، "یقیناً یہ ایک تاریخی لمحہ ہے،" اور مزید کہا کہ یہ شامی عوام کی 14 سالہ خانہ جنگی کے دوران جدوجہد کی علامت ہے۔

یہ پرچم کشائی اس وقت ہوئی جب صدر احمد الشراع کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لیے نیویارک کے دورے کی تیاری ہو رہی ہے۔ یہ کسی شامی صدر کا 58 سالوں میں امریکہ کا پہلا دورہ ہوگا۔

تقریب میں موجود بہت سے لوگوں کے لیے یہ دن  وسیع  علامتی معنی رکھتا تھا۔ 55 سالہ رغد بشناق،  جن  کا تعلق دمشق سے ہے، نے کہا کہ یہ 'ناقابل یقین' تھا۔انہوں نے یاد دہانی کرائی  کہ اسد کے دور میں، امریکہ میں مقیم شامی نگرانی کے خوف میں مبتلا رہتے تھے۔انہوں نے کہا، "اب ہم یہاں ہیں، خوش ہیں۔ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ آپ شام میں آزادی کی مہک  محسوس کر سکتے ہیں۔"

بشناق نے ترکیہ اور "تمام ان ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ہماری مدد کی اور ہمارا ساتھ دیا۔"

ایک نیا باب

امیر السمان، جو ایک شامی-امریکی اور پوڈکاسٹ Syria Speaks کے بانی ہیں، نے کہا کہ یہ دن "امریکہ-شام تعلقات میں ایک نئے باب کے حقیقی آغاز" کی علامت ہے۔

انہوں نے مزید کہا، "امید ہے کہ دمشق اور واشنگٹن بہتر تعلقات پر کام کریں گے۔ اور مجھے لگتا ہے کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ معاملات صحیح سمت میں جا رہے ہیں۔"

السمان نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ باقی امریکی پابندیاں ختم ہو جائیں گی۔انہوں نے کہا، "مجھے لگتا ہے کہ بہت سے لوگ شام کی پابندیاں ختم کرنا چاہتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ شام کی پابندیاں ختم ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ کانگریس کے بہت سے اراکین بھی ایسا چاہتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس بارے میں بات کی ہے۔ میں پر امید ہوں۔"

اپنے دورے کے دوران، الشیبانی نے قانون سازوں اور اعلیٰ حکام سے ملاقات کی، جن میں امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ اور نمائندہ  خصوصی برائے شام ٹام باراک شامل تھے۔

یہ بات چیت شام کے مستقبل، اسرائیل-شام تعلقات، اور دمشق اور وائی پی جی کی قیادت والے دہشت گرد گروپ شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے درمیان 10 مارچ کے معاہدے پر مرکوز رہی۔

اس معاہدے کا اعلان اس سال کے اوائل میں کیا گیا تھا، جس میں ایس ڈی ایف کو ریاستی اداروں میں ضم کرنے کے منصوبے کا خاکہ پیش کیا گیا تھا، شام کی علاقائی سالمیت پر زور دیا گیا تھا اور علیحدگی پسندی کو مسترد کیا گیا تھا۔

 

دریافت کیجیے
سوڈان: لاکھوں انسان صرف ایک وقت کھانا کھا رہے ہیں
اسلام آباد میں امن مذاکرات کے غیر نتیجہ خیز ہونے پر ٹرمپ ایران پر نئے فوجی حملوں پر غور کر رہے ہیں
ایران اور امریک اسلام آباد میں مذاکرات کے ختم ہونے سے قبل معاہدے کے بہت قریب تھے: عراقچی
ٹرمپ نے پوپ لیو پر بھی چڑھائی کر دی: مجھے ایسا پوپ نہیں چاہیئے
امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دی، تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں
ترکیہ: پانچواں انطالیہ ڈپلومیسی فورم عالمی رہنماوں کی میزبانی کے لئے تیار
ترک پراسیکیوٹروں نے نیتن یاہو کے خلاف فردِ جرم تیار کر لی
اسرائیل حزبِ اختلاف: نیتن یاہو ناکام رہے ہیں
عالمی صمود بحری بیڑہ دوبارہ غزہ کے لئے عازمِ سفر
ترکیہ: اردوعان۔ماکرون ملاقات
پاکستان میں 21 گھنٹے کے طویل امریکہ۔ایران مذاکرات بغیر معاہدے کے ختم ہو گئے
امریکی فریق کے غیر معقول مطالبات نے مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہونےدی: ایران ذرائع ابلاغ
اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات شروع
ایران جنگ می امریکی طیارہ نما ڈراون طیاروں کو وسیع پیمانے کا نقصان
اسرائیل کے غزہ کے ایک مہاجر کیمپ پر حملے میں فلسطینی شہری شہید