دنیا
2 منٹ پڑھنے
ٹرمپ: اگر افغانستان نے بگرام بیس ہمیں واپس نہ کی تو 'بری چیزیں' ہوں گی
اگر افغانستان بگرام ایئر بیس ان لوگوں کو واپس نہیں دیتا جنہوں نے اسے بنایا تھا تو بُری چیزیں ہونے والی ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
ٹرمپ: اگر افغانستان  نے بگرام بیس ہمیں واپس نہ کی تو 'بری چیزیں' ہوں گی
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ "ہم افغانستان سے بات کر رہے ہیں۔ یہ کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔" / AP

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر افغانستان بگرام ایئر بیس کا کنٹرول امریکہ کو واپس نہیں دیتا تو "بُری چیزیں" ہوں گی۔

ٹرمپ نے ہفتے کے روز ٹروتھ سوشل سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ  "اگر افغانستان بگرام ایئر بیس ان لوگوں کو واپس نہیں دیتا جنہوں نے اسے بنایا تھا یعنی ریاستہائے متحدہ امریکہ کو تو بُری چیزیں ہونے والی ہیں!!!"

جمعہ کے روز جاری کردہ بیان میں  ٹرمپ نے کہا  ہےکہ افغانستان کی بگرام ایئر بیس پردوبارہ تھوڑی تعداد میں  امریکی فوج کی  موجودگی کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چیت میں کہا ہے کہ "ہم دیکھیں گے کہ بگرام کے بارے میں  کیا ہوتا ہے۔ ہم افغانستان سے بات کر رہے ہیں۔ یہ  بیس کبھی بھی نہیں چھوڑی  جانی چاہیے تھی۔"

وال اسٹریٹ جرنل نے نام کو پوشیدہ رکھتے ہوئے ایک  امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ طالبان کے ساتھ ابتدائی بات چیت کر رہی ہے اور ان مذاکرات کی قیادت یرغمالیوں کے امور کے خصوصی ایلچی ایڈم بوہلر کر رہے ہیں۔

ان مذاکرات میں قیدیوں کے ممکنہ تبادلے، اقتصادی معاہدے اور سکیورٹی کے پہلو شامل ہیں۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ "اس بیس کو  چھوڑنے کی کوئی وجہ نہیں تھی ... ہمیں بگرام ایئر بیس کو اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہیے تھا"۔

کابل کے شمال میں واقع بگرام ایئر بیس افغانستان میں 2021 تک  20 سالہ جنگ کے دوران امریکہ کی سب سے بڑی بیس تھی ۔

افغان حکام نے بیس پر دوبارہ امریکی موجودگی کی مخالفت کی ہے۔

افغان وزارت خارجہ سے ذاکر جلال نے جمعرات کو ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ  "افغانستان اور امریکہ کو ،افغانستان کے کسی بھی حصے میں کسی عسکری  موجودگی کی ضرورت محسوس کئے بغیر ،باہمی تعلقات قائم کرنے چاہئیں"۔

دریافت کیجیے
ترکیہ کی طرف سے چار فلسطینیوں کی ہلاکت اور اسرائیل کی 'نسل کشی پالیسی' کی مذمت
شمال مغربی پاکستان میں پولیس چوکی پر دہشت گرد حملہ، 15 افراد لقمہ اجل
اقوام متحدہ کے سربراہ کا 17 سال بعد دورہ دمشق
ٹرمپ: اب ایران مذاکرات کے لیے زیادہ سنجیدگی سے کام لے رہا ہے
شمالی یوکرین میں سومی ڈاک خانے پر روسی ڈراون حملے میں 2 افراد ہلاک
فرانس اور ہسپانیہ میں بے قابو ہونے والی جنگلات کی آگ کے باعث دو لاکھ افراد فرار
ترکیہ: یوروفائٹر ٹائیفون کی تربیت کے لئے پہلا پائلٹ گروپ برطانیہ بھیجا جا رہا ہے
ایران، جنگ کی بھاری قیمت چُکا رہا ہے: روبیو
امریکی اسٹاک مرکیٹوں میں تناو، تیل 100 ڈالر سے اوپر چلا گیا
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
روسی گودام پر یوکرینی ڈرون حملے
جاپان امید کرتا ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت میں اضافہ ہوگا
ترکیہ COP31 پروگرام میں رضاکار بننے کے لیے درخواستیں جاری
چین نے آبنائے تائیوان میں دو روزہ فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: ہمارا دفاعی نظریہ بالکل واضح ہے، "آنکھ کے بدلے آنکھ"